بدھ 14 اکتوبر 2026 - 09:33
ڈیجیٹل دور؛ ایمان، اخلاق اور انسانی آبرو کا امتحان

حوزہ/ڈیجیٹل سہولت نے علم و معرفت کے فروغ، دینی تعلیمات کی اشاعت، مظلوموں کی حمایت اور سماجی خدمت کے بے شمار مواقع فراہم کئے ہیں، لیکن غیر مصدقہ خبروں، جلد بازی میں فیصلوں، غیبت، تہمت اور کردار کشی نے نئی اخلاقی پیچیدگیاں بھی پیدا کی ہیں۔ ایسے میں ایمانی زندگی کا تقاضا ٹیکنالوجی سے دوری نہیں، بلکہ اس کا استعمال قرآنی تعلیمات، شرعی حدود اور اخلاقی ذمہ داری کے مطابق کرنا ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی |

ڈیجیٹل سہولت نے علم و معرفت کے فروغ، دینی تعلیمات کی اشاعت، مظلوموں کی حمایت اور سماجی خدمت کے بے شمار مواقع فراہم کئے ہیں، لیکن غیر مصدقہ خبروں، جلد بازی میں فیصلوں، غیبت، تہمت اور کردار کشی نے نئی اخلاقی پیچیدگیاں بھی پیدا کی ہیں۔ ایسے میں ایمانی زندگی کا تقاضا ٹیکنالوجی سے دوری نہیں، بلکہ اس کا استعمال قرآنی تعلیمات، شرعی حدود اور اخلاقی ذمہ داری کے مطابق کرنا ہے۔

قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" یعنی ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (الحجرات، 49:6)

یہ آیت ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا کے لئے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ کسی الزام، ویڈیو یا پیغام کو تصدیق کے بغیر پھیلانا اور یک طرفہ معلومات کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ سورۂ نور کی آیت 15 بھی سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق آگے بڑھانے کے سنگین نتائج سے متنبہ کرتی ہے۔ خبر کی مقبولیت یا بار بار تکرار اس کی صداقت کی دلیل نہیں؛ تحقیق اور دیانت ہی ذمہ دارانہ اظہار کی بنیاد ہیں۔

انسانی آبرو کے تحفظ کے بارے میں قرآن کریم کا حکم واضح ہے: "وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا" یعنی ’’اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔‘‘ (الحجرات، 12)

مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں غیبت، تہمت اور دوسروں کی بے حرمتی سے اجتناب اہم شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مرجع اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کی فقہی رہنمائی بھی غیبت کی حرمت اور دوسروں کے پوشیدہ عیوب بیان کرنے سے اجتناب پر زور دیتی ہے۔ کسی کی نجی گفتگو، ذاتی کمزوری یا تحقیر آمیز مواد کو اس کی رسوائی کے لئے پھیلانا محض ڈیجیٹل سرگرمی نہیں، بلکہ شرعی و اخلاقی جواب دہی کا معاملہ بھی ہے۔

البتہ ہر تنقید غیبت نہیں اور نہ ہر شکایت ناجائز ہے۔ ظلم کی داد رسی، حق کے تحفظ اور عوامی مفاد کے لئے ضروری اظہار کی بعض صورتیں شرعی استثنا رکھتی ہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ بات سچی، ضروری اور منصفانہ ہو، اس کا مقصد اصلاح ہو، نہ کہ ذاتی انتقام یا کردار کشی۔

سوشل میڈیا پر بعض اوقات کسی واقعہ کا نامکمل منظر یا گفتگو کا منتخب حصہ کسی شخص کے خلاف مہم کا سبب بن جاتا ہے۔ لوگ تحقیق اور مکمل حقائق کے بغیر مدعی، منصف اور سزا دینے والے بن بیٹھتے ہیں۔ اس عمل سے کسی کی عزت، روزگار اور خاندانی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے منقول حکمت کا مفہوم ہے کہ عقلمند پہلے غور کرتا ہے، پھر بولتا ہے، جب کہ نادان پہلے بولتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے۔ (نہج البلاغہ، حکمت 40) یہ تعلیم ڈیجیٹل دور میں بھی تحمل، تحقیق اور ذمہ دارانہ اظہار کی اہمیت واضح کرتی ہے۔

اسی طرح ایمانی اور سماجی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ انسان ایسے قول و فعل اور آن لائن سرگرمیوں سے پرہیز کرے جو دین و مذہب کی ساکھ، ملک کے امن و استحکام، قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں۔ قرآن مجید فرماتا ہے: "وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" یعنی ’’اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘ (المائدہ، 2)

غیر مصدقہ خبریں پھیلانا، مذہبی و قومی تعصبات کو ہوا دینا اور نفرت انگیز مہمات کی تشہیر کرنا معاشرتی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ دین کی خدمت، ملک سے وفاداری اور قوم کی بھلائی کا تقاضا ہے کہ اختلاف کے باوجود عدل، امن، باہمی احترام اور انسانی وقار کو مقدم رکھا جائے۔ کسی خواہش و آرزو کو جھوٹ، تہمت یا ناانصافی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

دوسری جانب، سوشل میڈیا دینی معارف، مستند احکام، علمی مباحث اور فلاحی سرگرمیوں کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اس سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب معلومات مستند ہوں، حوالوں کی صحت کا خیال رکھا جائے اور اختلافی مسائل میں علمی دیانت برقرار رہے۔ دینی مواد کی اشاعت میں غلط روایت یا غیر مصدقہ فتویٰ پھیلانے سے اجتناب بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا عام خبروں کی تصدیق۔

ڈیجیٹل دور میں حقیقی دینداری کا معیار صرف مذہبی پیغامات کی اشاعت نہیں، بلکہ سچائی، عدل، انسانی آبرو کے تحفظ اور سماجی خیر میں عملی کردار ہے۔ ہر صارف اگر کسی پیغام کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صداقت، ضرورت اور ممکنہ نتائج پر غور کرے، تو سوشل میڈیا افواہ و نفرت کے بجائے علم، اصلاح، ہمدردی اور ذمہ دارانہ معاشرت کا وسیلہ بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha